تحریریں

دمہ کیوں ہوتا ہے اور اس لاعلاج مرض سے متاثرہ افراد کو کن چیزوں سے بچنا چاہیے؟

عالمی ادارہ صحت لاور عالمی دمہ نیٹ ورک کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ افراد دمہ سے متاثر ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اس مضمون میں اس مرض کی وجوہات، علامات اور اس مرض کے باوجود ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیے مشورے دیے جا رہے ہیں۔

دمہ کیا ہوتا ہے؟

دمہ سانس کی بیماری ہے جس میں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے اور متاثرہ فرد کا سینہ متاثر رہتا ہے۔

یہ بیماری سانس کی نالیوں کے ارد گرد موجود پٹھوں میں سوزش اور ان کے سکڑنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس مرض کا کوئی حتمی علاج تو نہیں ہے لیکن اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ سانس لینے میں مشکل کے علاوہ متاثرہ فرد کو خشک کھانسی اور چھاتی میں تناو کی کیفیت کی شکایت رہ سکتی ہے۔

ان کے مطابق اس بیماری کی علامات اور ان کی شدت وقت کے ساتھ تبدیل ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر یہ رات کے وقت زیادہ پریشان کرتی ہے یا پھر صبح سویرے۔

دمہ میں شدت کیوں آتی ہے؟

بہت سے عوامل دمہ کی علامات میں شدت لا سکتے ہیں۔ جینیاتی عوامل یا الرجی بیرونی عوامل سے مل کر اس بیماری کی شدت بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دھواں بھی سانس کی تکلیف بڑھا سکتا ہے۔

تمباکو کا دھواں خصوصا مضر ثابت ہوتا ہے کیوں کہ اس میں ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو سانس کی نالیوں میں سوزش بڑھاتی ہیں اور دمہ میں شدت لا سکتی ہیں۔ پولن، گرد اور مخصوص خوشبو بھی دمہ میں شدت کا سبب بن سکتی ہیں۔

دمہ اور ماحولیاتی تبدیلی

ایسے افراد جو دمہ سے متاثر ہوتے ہیں، موسمیاتی یا ماحولیاتی تبدیلی بھی ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔

انسان کے پھیپھڑے بیرونی دنیا سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں اور کسی بھی قسم کی تبدیلی ان پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ بدلتے ہوئے ماحول میں شدت اختیار کرتا ہے جیسا کہ بیرونی پولن میں اضافہ یا ٹریفک کا دھواں، آلودگی، آگ، گرمی کی لہر، طوفان یا گرد۔ اس کے علاوہ ہوا میں نمی بڑھنے سے بھی دمہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ سانس کی نالیاں کافی حساس ہوتی ہیں اور کسی بھی بیرونی تبدیلی کی وجہ سے اندرونی خلیوں کی تہہ پر اثر پڑتا ہے اور یوں ردعمل میں سانس کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں یا پھر کھانسی ہوتی ہے۔

دمہ کن افراد کو ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے؟

ویسے تو یہ مرض کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن کم عمر افراد میں یہ زیادہ عام ہے۔ اس کی ایک وجہ جینیاتی عوامل ہوتے ہیں تاہم والدین سے بچوں میں اس بیماری کے منتقل ہونے کے امکانات ہمیشہ موجود نہیں ہوتے۔

اگرچہ یہ کہنا مشکل ہے کہ کن افراد کو یہ مرض ہونے کے امکانات زیادہ ہیں لیکن کچھ افراد میں دمہ کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ان میں وہ افراد شامل ہیں جو وقت سے پہلے پیدا ہوتے ہیں، یا وہ بچے جن کو سانس کی تکالیف اور بیماریاں زیادہ ہوتی ہیں، موٹاپے کا شکار افراد، زیادہ عرصے تک آلودگی یا دھویں کا سامنا کرنے والے افراد اور الرجی سے متاثرہ افراد۔ڈاکٹڑ بدر الدین کا کہنا ہے کہ ایسے بچے جن میں وائرل انفیکشن زیادہ ہوتا ہے، دمہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا نہیں جیسا بلڈ پریشر ہوتا ہے جس میں نمک اور ہائپر ٹینشن کا سبب بننے والی مصنوعات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

دمہ کا علاج

یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ دمہ کا علاج احتیاط ہے جو مریض کو آگاہی دینے سے شروع ہوتی ہے۔ مریض کو بتانا چاہیے کہ تمباکو نوشی سے گریز کریں اور دھویں والی جگہوں پر زیادہ نہ جائیں کیوں کہ ان سے دمہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسی مصنوعات کے استعمال سے پرہیز کریں جو سانس کی نالیوں کو متاثر کرتی ہیں جیسا کہ پینٹ یا صفائی والی مصنوعات۔

دمہ کے مریضوں کو کورٹیکوسٹیروئڈ دیے جاتے ہیں جو سانس کی نالیوں کی سوزش میں کمی لاتے ہیں۔

ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ دمہ سانس کی نالیوں کی دائمی سوزش ہے جس کا مطلب ہے کہ بنیادی علاج اور باقاعدہ مانیٹرنگ ضروری ہے۔ سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ مریض کو آگاہی دیں۔

ماہرین کے مطابق مریض کو بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے اور ان کو بتانا چاہیے کہ مرض میں شدت کیوں اور کیسے آتی ہے۔

ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ ایک لیٹنٹ دمہ ہوتا ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتا اور وفقے وفقے سے زیادہ علامات کے بغیر رہتا ہے۔ تاہم ایسے افراد کو بھی چاہیے کہ ڈاکٹر کو باقاعدہ چیک کروائیں اور ٹیسٹ کروائیں جن سے دمہ کا علاج ضرورت کے حساب سے طے کیا جا سکے۔

کیا دمہ سے متاثرہ فرد کھیل سکتا ہے؟

اس بیماری سے متاثرہ افراد کھیل کود کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کھیل سے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں اور دمہ سے متاثرہ افراد میں ذہنی تناو بھی کم ہوتا ہے۔

ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ کھیل علاج کا ایک حصہ ہے۔ ایسے چیمپیئن ہیں جن کو دمہ ہے لیکن وہ اس کا خیال رکھتے ہیں۔

’اس کے علاوہ دمہ کی دوایاں پرفارمنس بڑھانے والی چیزوں میں شمار نہیں ہوتیں۔‘

تیراکی، سائیکلنگ اور تیز چلنا دمہ کے مریضوں کے لیے فائدہ مند سرگرمیاں ہیں۔ تاہم سردی میں دوڑنا دمہ میں شدت لا سکتا ہے۔ اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو مریض کو دوڑ سے پہلے جسم کو خوب گرما لینا چاہیے اور دس سے پندرہ منٹ قبل برونکو ڈائلیٹر کا استعمال کرنا چاہیے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ دمہ کے مریضوں کو چاہیے کہ کسی بھی طرح کی جسمانی ورزش عمر اور سانس لینے کی صلاحیت کے حساب سے طے کریں اور پہلے طبی ماہرین سے مشورہ کریں۔

کیا دمہ جان لیوا ہو سکتا ہے؟

ڈاکٹر بدر الدین کا کہنا ہے کہ دمہ بے ضرر لگتا ہے لیکن کوئی شدید دورہ مریض کی موت کا سبب بن سکتا ہے۔

دمہ کے شدید دورے اچانک مریض کو ہسپتال تک لے جا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بدر الدین کہتے ہیں کہ اکثر لوگ طبی ماہرین سے مشورہ کیے بنا دوا چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ ایسا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر بدر الدین کہتے ہیں کہ دمہ کی ایک قسم، جو عمر رسیدہ افراد میں ہوتی ہے، بھی جان لیوا ہو سکتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ان کی موت دمہ سے ہوئی لیکن حقیقت میں اس کی وجہ کچھ اور ہوتی ہے جس کی علامات دمہ سے ملتی جلتی ہیں۔

واضح رہے کہ اگر دمہ کا خیال نہ رکھا جائے تو ایسی علامات سامنے آ سکتی ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے اور یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ کسی شدید دورے کے دوران سانس کی نالیاں اس حد تک سکڑ سکتی ہیں کہ مریض کو ری ایکشن ہو سکتا ہے اور سانس لینا نا ممکن ہو جاتا ہے۔

بچوں، عمر رسیدہ افراد اور سانس کی انفیکشن سے متاثرہ افراد میں ایسا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

دمہ کے ساتھ بہتر زندگی کیسے گزاری جا سکتی ہے؟

دمہ کے ساتھ زندگی گزارنا ایک چیلنج ہے لیکن ناممکن نہیں۔ یہ ضروری ہے کہ چند قوانین کو زندگی کا حصہ بنا لیا جائے۔

ایک صحتمند زندگی جس میں باقاعدگی سے علاج جاری رکھا جائے اور ایسے عوامل سے بچا جائے جو بیماری میں شدت کی وجہ بنیں دمہ پر قابو رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں