تحریریں

سمندر سارے شراب ہوتے ۔۔۔۔۔شاعری

 سمندر سارے شراب ہوتے تو سوچو  کتنے فساد ہوتے

سمندر سارے شراب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

گناہ نہ ہوتے ثواب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

کسی کے دل میں کیا چھپا ہے یہ تو رب ہی جانتا ہے

دل اگر بے نقاب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

تھی خاموشی ہماری فطرت جو چند برسوں بھی نبھ گئی ہے

جو ہمارے منہ میں جواب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

ان کی نظریں نہ جان پائیں اچھائیاں ہماری محسنؔ

ہم جو سچ میں خراب ہوتے تو سوچو کتنے فساد ہوتے

محسن نقوی

یہ بھی پڑھیں