تحریریں

ہائی پوٹنسی میڈیسن ( High Potency)

اکثر مریض اپنی ادویات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر نے ہائی پوٹینسی میڈیسن دے دی تھی جس سے میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی وغیرہ وغیرہ۔ یا یوں کہتے ہیں کہ مجھے ڈاکٹر نے 500 ملی گرام کی گولیاں دی تھیں جو میں نے دن میں دو بارکھانی تھیں۔ ان سے میری طبیعت بہت خراب ہو گئی ہے۔
یاد رکھیئے کوئی بھی میڈیسن ہائی پوٹینسی نہیں ہوتی۔ ہاں کچھ میڈیسن کے سائیڈ افیکٹس ایسے ہوتے ہیں جن میں چکر آنا، سر بوجھل ہونا، نیند کا زیادہ ہونا وغیرہ شامل ہیں، دوسرا ہر دوائی ہر مریض کو موافق نہیں آتی بالکل اسی طرح جیسے ایک غذا کچھ لوگوں کو موافق نہیں آتی جبکہ دوسرے بہت مزے لے کے کھا رہے ہوتے ہیں۔
ایک دوائی بہت ہی کڑی تحقیق کے مراحل سے گزرنے کے بعد مارکیٹ میں آتی ہے اس میں سب سے پہلے جانوروں پے تجربات کیے جاتے ہیں پھر صحت مند انسانوں میں استعمال کی جاتی ہے تاکہ اس کے سائیڈ افیکٹس کا اندازہ لگایا جا سکے۔ جب اس کے محفوظ ہونے کا یقین کر لیا جاتا ہے تو اس کے بعد دوائی تجرباتی طور پر مریضوں کو دی جاتی ہے۔ اور اس کی سب کم مقدار جو بیماری کو کنٹرول کرتی ہے اور جس مقدار پہ کم سے کم سائیڈ افیکٹس آتے ہیں وہ مقدار(dose) علاج کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔
دوسرا ہر دوائی میں مختلف مرکب ہوتا ہے جس کی مقدار کو ایک ہی ترازو میں نہیں تول سکتے۔ اگر مان لیا جائے کہ 500 ملی گرام کی گولیاں ہائی پوٹینسی میں شمار ہوتی ہیں تو وہ گولی جو ایک ملی گرام یا 0.5 ملی گرام کی ہے اس کا تو اثر ہی نہیں ہو گا؟؟ تو ملی گرام سے آپ نے نہیں گھبرانا۔ جو مقدار آپ کو دی جاتی ہے وہ آپ کی بیماری کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ آپ جو دوائیں پہلے استعمال کر رہے ہوتے ہیں وہ اپنے ڈاکٹر کو لازمی بتایا کریں تاکہ ایک تو وہی میڈیسن آپ کو دو بار نہ دے دی جائے جس سے مقدار ڈبل ہو جائے گی دوسرا کچھ میڈیسن کا آپس میں انٹریکشن(interaction ) ہوتا ہے جس میں ایک دوائی دوسری دوائی کی خون میں مقدار بڑھا یا کم کر دیتی ہے۔ اس صورتحال میں بھی کچھ دوائیں خرابی طبیعت کا باعث بن سکتی ہیں۔
ہمیشہ مستند ڈاکٹر سے مشورہ لیں اور تجویز کردہ ادویات کو ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں