تحریریں

پرُسکون نیند کے لیے صدیوں سے استعمال ہونے والے ٹوٹکوں کے بارے میں سائنس کیا کہتی ہے؟

نیند شاید اس وقت سب سے زیادہ مطلوب شے ہوتی ہے جب آپ پرسکون انداز میں سو نہیں پاتے۔

اس ضمن میں گھریلو علاج کے بہت سارے ٹوٹکے ہیں جو دوا کے بغیر اس چیز (پرسکون نیند) کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں مُلٹھی یا سنبل کی جڑ، بابونہ (ایک جڑی بوٹی)، جئی یا لنڈن (شجر لائم) کے پھول، تُلسی، کاہو یا سلاد پتہ، سیب کا چھلکا یا اسطوخودوس کی خوشبو وغیرہ کا ذکر سامنے آتا ہے۔

صرف ان جڑی بوٹیوں کا نام لینے سے ہی ایک صاف اور سادہ دنیا میں جنگلی باغات کا خیال اُبھرتا ہے اور یہ سب سُننے میں سکون بخش ہیں۔

لیکن کیا اس کے سائنسی شواہد بھی موجود ہیں کہ اِن جڑی بوٹیوں کے مرکبات اُس نیند کو لانے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں جو ہم سے روٹھی ہوئی ہے۔

ان کی مارکیٹ میں دستیاب پیکیجنگ پر اس قسم کی تحریریں ملتی ہیں کہ ’یہ پُرسکون راتوں کے لیے بہترین فطری نسخہ ہے‘ یا اسے ’روایتی طور پر بے خوابی کو دور کرنے کے لیے سکون آور شے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘

تاہم اس ضمن میں علمی مطالعات بھی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے کئی اور دوسرے اجزا دماغ کے نیورو ٹرانسمیٹر وائی امینوبیٹرک ایسڈ، جسے عرف عام میں جی اے بی اے (گابا) کے نام سے جانا جاتا ہے، پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

کارڈف یونیورسٹی میں کلینکل فارماکولوجی کے پروفیسر اور گابا ریسیپٹر جیمز کولسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ‘ایک قسم کا روک تھام کا اثر ہو سکتا ہے اور مرکزی اعصابی نظام کے کچھ حصوں کے لیے یہ مسکن دوا ہو سکتی ہے۔‘

کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

کیمومائل یا بابونہ؟

آئیے جڑی بوٹیوں والی چائے سے شروع کرتے ہیں جن میں اکثر خوشبودار جڑی بوٹیاں، شیریں اور خوش ذائقہ شہد، درختوں کی چھال اور نازک پھول شامل ہوتے ہیں، اور ایسا ہی ایک مقبول پودا کیمومائل (بابونہ) بھی ہے۔

مگر اس کے انسانی جسم پر اثر کے بارے میں شواہد کیا کہتے ہیں؟

کولسن نے جواب دیا: ’چائے میں ہم جن اجزا کی شناخت کر سکتے ہیں اس جیسے سینکڑوں مختلف کیمیکلز ان میں ہوتے ہیں جو پودے کے ذریعہ تیار کیے جاتے ہیں۔‘

‘لیکن یہ کبھی بھی یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہو سکا کہ کون سا سب سے زیادہ متعلقہ اور فعال کیمیکل یا کیمیکلز کا گروپ ہے۔‘

’ہم واقعی نہیں جانتے کہ وہ گابا لینے والوں پر اثر بھی کرتے ہیں یا نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کچھ تحقیق ہوئی ہے، لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اس کی لی گئی خوراک کے لحاظ سے ان کے طریقہ کار بہت مختلف ہیں، یہ کس قسم کی آبادی کو دی گئی ہیں اور ان کے نتائج کی کس طرح پیمائش کی جا رہی ہے۔‘

‘اگر ہم ان تمام مطالعات پر نظر ڈالتے ہیں جو اب تک کیے گئے ہیں، تو اس بات کے قائل کرنے والے ثبوت تلاش کرنا مشکل ہے کہ ان کے اثرات کیا ہیں اور یہ کہ اچھی نیند کو حاصل کرنے کے لیے اس کی کتنی مقدار کی ضرورت ہو سکتی ہے۔’

اس بات کے بہت کم شواہد ہیں کہ بابونہ یا کیمومائل نیند آور ہے

والیرین یا جنس سنبل یا بالچھڑ؟

یہ سب سے مشہور جڑی بوٹیوں کے عرقوں میں سے ایک ہے جو جنس سنبل یا بالچھڑ کی جڑوں سے نکالی جاتی ہے۔ اس کا پودا یورپ اور ایشیا میں ملتا ہے جو کہ گرمیوں میں پھول دیتا ہے۔ اس کے پھول خوشبودار گلابی یا سفید ہوتے ہیں اور یہ ڈیڑھ میٹر تک بڑھ سکتے ہیں۔

یہ آپ کو چائے، شربت اور گولیوں کی شکل میں مل جاتا ہے۔

اس سے تیار کچھ مصنوعات میں کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ نیند میں مددگار ہے، انسان کو پرسکون کرتا ہے اور بے چینی کو کم کرتا ہے۔

اس کے بارے میں بھی کولسن کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ اس کے عرق کو دیکھیں جو اس کی جڑ سے نکالے جاتے ہیں تو ان میں 150 سے زیادہ مختلف کیمیکلز کا مرکب ملے گا۔‘

اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’اب تک اس کے متعلق کوئی اتفاق رائے نہیں ہے کہ کون سا (یا کون) اصل میں فعال جزو ہے (جو کام کرتا ہے)۔‘

کچھ اشارے ضرور ہیں کہ گابا لینے والے یا سیروٹونن لینے والوں پر کم اس میں سے کسی کا اثر ضرور ہوتا ہے۔’

لیکن شواہد کتنے مضبوط ہیں جو یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے کافی ہوں کہ والیرین جڑ کا عرق مددگار ہو سکتا ہے؟

’نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ ہم ابھی تک وہاں پہنچے ہیں۔‘

’اس کے علاوہ، ہمارے پاس یہ ظاہر کرنے کے لیے ڈیٹا نہیں ہے کہ اس کا گابا ریسیپٹرز پر کیا اثر ہو رہا ہے۔‘

کیا آپ کسی ایسے شخص کو جسے نیند نہ آنے کی شکایت ہو ویلرین جڑ کے عرق کے استعمال کا مشورہ دیں گے ؟

’ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میرے لیے اس وقت اس کے استعمال کی سفارش کرنے کے لیے کافی شواہد نہیں ہیں۔‘

لیوینڈر یا اسطوخودوس؟

اس فہرست میں اگلی چیز لیوینڈر آئل یا اسطو خودوس کا تیل ہے جس کی خوشبو سکون بخش بتائی جاتی ہے لیکن کیا اس کے ٹھوس شواہد بھی ہیں؟

بدقسمتی سے، نہیں۔

کولسن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی علاج کی ادویات بنانے والے چونکہ انھیں خوراک کے طور پر بیان کرتے ہیں، اس لیے ان پر صرف کھانے کی مصنوعات کی فروخت سے متعلق ضوابط عائد ہوتے ہیں۔

’اگر وہ یہ دعویٰ کریں کہ یہ علاج کی دوائیں ہیں، تو ان کے ساتھ کسی دوسرے دواسازی کے اصول کے تحت سلوک کیا جائے گا اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس زیادہ تر جڑی بوٹیوں کی تیاریوں پر اعلیٰ معیار کا سائنسی ڈیٹا نہیں ہے۔‘

بات یہ ہے کہ ’ابھی تک اس کے طبی استعمال کی سفارش کرنے کے لیے کوئی شواہد بھی نہیں ہیں۔‘

لیکن اس کی وجہ سے ہم ان کا استعمال جاری رکھنے سے باز نہیں آ سکتے کیونکہ یہ صدیوں سے استعمال میں ہیں۔

اس کے علاوہ، ایسی دواؤں کی نظیریں بھی موجود ہیں جو روایتی علاج سے تیار کی گئی ہیں، جیسے کہ ایسپرین، جو کہ ولو یعنی بید مجنوں کی چھال میں موجود فعال جزو کا مصنوعی ورژن ہے۔

کولسن کہتے ہیں کہ ’در حقیقت دواسازی کی صنعت میں ہمارے زیادہ تر اہم مرکبات قدرتی مصنوعات سے آتے ہیں، لیکن انھیں دوائیوں میں تبدیل کرنے کے لیے بہت زیادہ اصلاح کا کام کیا جاتا ہے اور بہتری لائی جاتی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جیسا کہ کہا جاتا ہے، مجھے خود لیونڈر (بیند مجنون) کی خوشبو پسند ہے اور مجھے یہ بہت سکون بخش لگتی ہے، اس لیے میں سمجھ سکتا ہوں کہ لوگ لیوینڈر کے سپرے کیوں کرنا چاہتے ہیں۔‘

تو، کیا زیادہ پروسیسنگ کے بغیر پودوں کے فوائد اور خصوصیات ہیں؟

‘کوئی بھی چیز جو آپ کو زیادہ پر سکون اور آرام دہ محسوس کرا سکتی ہے اس سے آپ کو سونے میں مدد ملے گی۔’

اور ماہرِ نیند فزیوولوجسٹ سٹیفنی رومیسوزکی اس بات سے متفق ہیں: ’اگر آپ بغیر کیفین والی چائے پیتے ہیں اور آپ کو بہت اچھا احساس ہوتا ہے، تو یہ حیرت انگیز ہے۔‘

’یہ پرسکون کرنے کے لیے اچھا ہے اور آپ کو نیند کی آغوش میں لے جانے میں مدد کرتا ہے۔‘

تاہم، رومیسوزکی خبردار کرتی ہیں کہ اگر آپ کو واقعی نیند کا کوئی مسئلہ ہے، تو پھر کوئی بھی سکون بخش چیز آپ کو سونے میں مدد نہیں دے گی۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو لازمی طور پر خواب آور دواؤں کا سہارا لینا پڑے گا۔

تو پھر؟

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے خیال سے اگر آپ کو لیوینڈر کا سپرے اچھا لگتا ہے اور آپ کو فرحت کا احساس دیتا اور آپ اسے اسی لیے استعمال کرتے ہیں نہ کہ نیند آور کے طور پر تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔‘

’لیکن اگر یہ علاج بیساکھی بن جاتے ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ ان کے بغیر آپ کو اچھی نیند نہیں آئے گی تو یہ بہت بُرا ہے کیونکہ یہ دائمی بے خوابی کو برقرار رکھتا ہے، اور آپ کو فطری طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ کچھ غلط ہے۔‘

تو پھر آپ ان لوگوں کو کیا مشورہ دیں گے جنھیں نیند نہیں آتی یا پھر رات میں وہ سونے کے فورا بعد جاگ جاتے ہیں اور رات بھر جاگے رہتے ہیں؟

’اگر آپ کو تھوڑی مدت کے لیے نیند کا مسئلہ ہے، تو میرا بہترین مشورہ یہ ہوگا کہ آپ کچھ نہ کریں۔‘

’پریشان نہ ہوں، اپنے جسم کو دوبارہ پٹری پر آنے دیں اور اپنے رویے کو نمایاں طور پر تبدیل نہ کریں۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گے۔‘

لیکن پھر ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہم ان لوگوں کی بات کریں جن کو نیند کا دائمی مسئلہ ہے، یعنی وہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے اس کا شکار ہیں، تو میری سب سے زیادہ شواہد پر مبنی عمل کی سفارش ہو گی یعین بے خوابی کے علاج کے لیے تھراپی۔‘

انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس علاج کا مقصد نیند کے نقصان دہ پیٹرن کو توڑنا اور ایک نیا پیٹرن بنانا ہے۔

’بے خوابی کو ایک مسئلہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک پیٹرن کے طور پر دیکھنا اچھا ہے، یہ سمجھنا کہ ہم انسان ہیں، روبوٹ نہیں۔ مستقل مزاجی کلید ہے، کمال کلید نہیں۔‘

انھیں اس کا اتنا یقین ہے کہ وہ اس کے متعلق شرط لگانے کو تیار ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں شرطیہ کہہ سکتی ہوں کہ اگر آپ روزانہ ایک ہی وقت پر جاگنا شروع کر دیں، تو آپ بہتر محسوس کرنے لگیں گے۔ اس سے ناصرف آپ کے سونے اور جاگنے کے چکر میں بہتری آئے گی، بلکہ آپ کا مزاج، درجہ حرارت اور بھوک میں بھی بہتری آئے گی۔‘

لیکن ایسا کرنا ایک چیلنج بھی ہے

یہ بھی پڑھیں