تحریریں

اگر ڈرا کا ‘مزہ’ بھی جیت سا لگنے لگے

امپائرز خراب روشنی پہ کھیل ختم نہ کرتے تو یہی ڈکلئیریشن الٹا بابر اعظم کے گلے بھی پڑ سکتی تھی

بالآخر سال کے آخری ٹیسٹ میچ کی آخری شام کا سورج ڈھل گیا اور پاکستان کے سر پہ منڈلاتا خفت کا سایہ بھی ٹل گیا۔  

اسی سال پاکستان ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل کے لئے ڈارک ہارس بھی قرار پایا اور پھر اسی سال پاکستان اپنی تاریخ میں پہلی بار ہوم گراؤنڈز پہ کلین سویپ کی ہزیمت سے بھی دوچار ہوا۔ اور اسی سال یہ نایاب مظہر بھی دیکھنے کو ملا کہ پاکستان پے در پے چار ٹیسٹ میچز کھیل کر بھی جیت کے ذائقے سے محروم رہا۔

اگر بابر اعظم چاہتے تو اننگز جاری رکھ کر ٹم ساؤدی کو بالکل ہی مایوس کر سکتے تھے۔ مگر انہوں نے یکسر مایوسی کو آدابِ مہمان نوازی کے خلاف جانا اور بھلے میچ ختم ہونے سے پون گھنٹہ پہلے ہی سہی مگر اننگز ڈکلئیر تو کی۔

ساؤدی کے بلے بازوں نے بہرحال مایوسی کو پاس بھی نہ پھٹکنے دیا اور اسی عزم کا اظہار کیا جو ہفتہ بھر پہلے بین سٹوکس کی بیٹنگ لائن نے دکھایا تھا۔ اگر وقت آڑے نہ آتا اور امپائرز خراب روشنی پہ کھیل ختم نہ کرتے تو یہی ڈکلئیریشن الٹا بابر اعظم کے گلے بھی پڑ سکتی تھی۔

مگر یہاں پاکستان کے لئے خوش آئند پہلو چوتھی اننگز کی بیٹنگ تھی جو اس ٹوٹتی پھوٹتی پچ پہ اش سوڈھی کی چال بازیوں کے سامنے ہرگز آسان نہیں تھی۔ مگر امام الحق جیسے چٹان بن کر کھڑے ہوئے اور پھر ان کی معیت میں جو کردار سرفراز احمد اور سعود شکیل نے ادا کیا، وہ لائقِ تحسین ہے۔

مثبت پہلو پاکستان کے لئے یہ بھی رہا کہ محمد وسیم نے آل راؤنڈرز کی تلاش میں سرگرداں پاکستانی تھنک ٹینک کو ایک ایسا آپشن دکھلا دیا جو نہ صرف 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کو سوئنگ کر سکتا ہے بلکہ اپنے بلے سے چوتھی اننگز کا دباؤ بھی جھیل سکتا ہے۔

مگر بحیثیتِ مجموعی یہ کارکردگی پاکستان کے لئے خوش کُن نہیں تھی۔ بولنگ ہو، بیٹنگ ہو کہ فیلڈنگ، تینوں شعبوں میں کیوی برتری واضح نظر آئی اور پاکستانی ٹیم مدافعتی حصار میں گھری رہی۔

المیہ مگر اسی پہ ختم نہیں ہوتا۔ پچھلے ہفتے انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف جس طرز کی کرکٹ کھیلی تھی، نہ تو پاکستان اس کا کوئی جواب لا پایا اور نہ ہی حالیہ ہفتے کھیلی گئی ولیمسن کی اولڈ سکول کرکٹ کا کوئی جواب پاکستان کے پاس موجود تھا۔

جب رواں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ سائیکل کے آغاز پہ پاکستان کو فائنل کے لئے ‘ڈارک ہارس’ قرار دیا جا رہا تھا، تب یہ امکانات حقیقت سے بعید تر نہیں دکھائی دیتے تھے۔ پاکستان کا شیڈول بھی سابقہ سائیکل کی نسبت خاصا سہل تھا کہ اسے آسٹریلیا، انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسے حریفوں کا سامنا اپنے ہوم گراؤنڈز پہ کرنا تھا۔

جنوبی افریقہ کو کلین سویپ کرنے کے بعد پاکستان کا مورال اس قدر بلند تھا کہ یہ سب اندازے اور پیشگوئیاں بالکل بھی بعید از قیاس نہیں تھے۔ جو مومینٹم پاکستان کو حاصل تھا، اگر اسی کو آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف برقرار رکھا جاتا تو آج ٹیسٹ چیمپئن شپ ٹیبل کا حلیہ بالکل مختلف ہوتا۔

مگر پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پچ سے گھاس اڑا کر جو مدافعتی حکمتِ عملی اختیار کی تھی، سال تمام ہوتے ہوتے وہ اپروچ اس ٹیم کے خمیر میں رچ بس چکی ہے۔ بقا ہی اب اس ٹیم کی اولین ترجیح بنتی چلی جا رہی ہے۔

اور جب پہلی ترجیح ہی کسی بھی قیمت پہ شکست سے پہ احتراز برتنا ہو تو پھر ڈرا کا ‘مزہ’ بھی کسی فتح سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ جہاں قدرت کا نظام ورلڈ کپ جیسے ایونٹ میں کام آ گیا، وہی قدرت کا نظام ایک بار پھر کراچی میں بھی کارفرما ہوا اور پاکستان کو شکست کی خفت سے بچا گیا

یہ بھی پڑھیں