تحریریں

یا تو انقلاب آ چکا یا کچھ بہت بُرا ہونے جا رہا ہے‘ عمران خان کی گرفتاری، مظاہروں پر تبصرے

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کو رینجرز نے کل القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد ان کی حامیوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

اب تک کئی شہروں میں متعد سڑکیں بند ہیں اور تحریکِ انصاف کے مشتعل کارکنوں نے راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر اور لاہور میں کورکمانڈر ہاؤس میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کے بعد کورکمانڈر ہاؤس کو نذرِ آتش بھی کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر عمران خان کے حامیوں کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر سے کئی افراد ان کی گرفتاری کی مذمت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بیشتر تجزیہ کار اس گرفتاری کو معاشی اور سیاسی بحران میں ڈوبے ملک کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

پروفیسر حسن عباس نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے عمران خان کی گرفتاری کو پاکستان کے لیے ’خطرناک لمحہ‘ قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حالات تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتے ہیں کیونکہ عمران خان کی بے پناہ مقبولیت کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سیاسی پولرائزیشن اور معاشی بحران کی اس گھڑی میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

اینکر ندیم ملک

کے مطابق عمران خان کی اس طریقے سے گرفتاری درست نہیں۔ انھوں نے لکھا کہ بغیر کسی موثر وجوہات کے کسی بڑے سیاسی رہنما کو گرفتار کرنا، سیاست میں کشیدگی کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر کسی کیس میں تفتیش درکار ہو، تو بغیر گرفتار کیے یہ عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔

اویس سلیم نے لکھا کہ وہ یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ اس سے مزید افراتفری پھیلانے کے علاوہ اور کیا مقصد ہو گا؟ عمران خان کے خلاف ابھی تک کوئی ایسا مقدمہ ثابت نہیں ہوا جس کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوں، نہ ہی وہ کہیں بھاگ رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اس گرفتاری کی وجہ کچھ لوگوں کے انتقام کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔‘

صحافی سرل المیڈا نے عمران خان کی گرفتاری کے بعد لاہور کے مناظر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یا تو انقلاب آ چکا ہے یا کچھ بہت برا ہونے جا رہا ہے۔‘

عاتکہ رحمان کہتی ہیں کہ عمران خان کی گرفتاری اس بات کی یادہانی ہے کہ پاکستان میں طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ فوج نے منٹوں میں وہ کر دکھایا جو حکومت پچھلے چند مہینوں میں بار بار کرنے میں ناکام رہی۔

وہ مزید لکھتی ہیں کہ وزیر اعظم کے طور پر عمران خان کے اپنے دور میں سیاستدانوں کی گرفتاریوں کی طرح، اس گرفتاری کا تعلق کرپشن سے بہت کم ہے۔

ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیا انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین نے عمران خان کی گرفتاری کے حوالے سے لکھا کہ آج ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کی فوج ’بس بہت ہو چکا‘ والے لمحے تک پہنچ گئی ہے۔ پولیس کی طرف سے گرفتاری کی کئی ناکام کوششوں کے بعد اس بار فوج نے معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

اینکر شاہزیب خانزادہ نے اسے ایک افسوسناک دن قرار دیا۔ نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج ایک اور سابق وزیراعظم اور مقبول لیڈر گرفتار ہوا ہے۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ ایسی گرفتاریاں کیسز کو میرٹ پر ثابت کرنے کے لیے نہیں بلکہ پیغام پہنچانے کے لیے ہوتی ہیں۔

تجزیہ کار باقر سجاد لکھتے ہیں کہ پاکستان میں ہر شخص کو اسی دن کا ڈر تھا۔ لیکن کچھ لوگ اپنی انا کے باعث حالات کی سنگینی کا ادراک کرنے سے قاصر رہے۔ دعا ہے یہ حالات جلد ختم ہوں۔

تباد لیب سے وابستہ تجزیہ کار مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری شرمناک ہے۔ اس سے ایک بار پھر تصدیق ہوتی ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے ایک عام ملک بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

وہ مزید کہتے ہی کہ کوئی بھی انتخابی عمل جو خان ​​یا کسی اور الیکشن سے روکتا ہے، ایک سمجھوتہ شدہ الیکشن ہو گا اور جیسے حالات چل رہے ہیں اس حساب سے شاید کوئی الیکشن ہی نہ ہو۔

عاطق چوہدری کا کہنا ہے کہ ’عمران خان کو گرفتار کرنے والوں سے ایک بار پھر مس کیلکولیشن ہو گئی ہے، جس طرح گرفتاری پر سخت عوامی ردعمل آیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ حالات بدل چکے ہیں۔‘

’پالیسی سازوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ورنہ ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو گا۔ ٹھنڈے دل سے سوچیں۔ عوام و ادارے آمنے سامنے نہیں آنے چاہیں۔‘

ایک اور صارف نے لکھا کہ اگر کسی شخص کا دل و دماغ کام کر رہا ہے تو وہ آج کی صورتحال پر جشن نہیں منا سکتا۔ یہ صرف پاگل پن نہیں بہت نقصان دہ ہے۔ چاہے آپ کسی بھی سیاسی جماعت کے حامی ہوں، یہ سسٹم کی ناکامی ہے۔

اسی پر ردِعمل دیتے ہوئے عدنان رسول نے لکھا کہ اس صورتحال پر ہنسنے والوں کو یقیناً اس چیز کا ادراک نہیں ہے کہ لاکھوں لوگوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔

دانیال لکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس کا اس ملک سے تعلق ہے یا جسے اس ملک سے ذرا سی بھی محبت ہے اسے آج کے مناظر سے شدید خوفزدہ ہونا چاہیے

ماہین ملک کہتی ہیں کہ ’عمران خان کی گرفتاری محض ایک فرد کی گرفتاری نہیں بلکہ پاکستان کی جمہوریت، آزادی اظہار، قانون کی حکمرانی اور انصاف کا گلا گھونٹنا ہے۔‘

معاذ بھاٹیا کہتے ہیں کہ ’عمران خان کی گرفتاری بلکل ویسی ہی ہے جیسے ماضی میں بھٹو، نواز اور دیگر سیاستدانوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کوئی شخصی لڑائی نہیں ہے۔ یہ لڑائی تب بھی جمہوریت کے لیے تھی اور آج بھی وہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں